ہمارا پہلا اردو زبان میں تربیتی بلاگ

ہمارا پہلا اردو زبان میں تربیتی بلاگ

ایک تربیت کار کو کیا بنیادی مگر عالمی علمی زبانوں میں تربیت دینی چاہیے یا اسے علاقائی اعتبار سے اپنے تربیتی پروگرام میں تبدیلیاں لانی چاہییں؟

یہ سوال مجھے کسی بھی ٹریننگ سے پہلے کافی باتیں سوچنے پہ مجبور کر دیتا ہے۔

ہم نے یہ دیکھا ہے کہ بہت سے تربیتی پروگرامز اس لیے ناکام ہو جاتے ہیں کہ وہ علاقائی زبان میں تشکیل نہیں کیے جاتےبلکہ ہم انگریزی زبان کو ہی استعمال کررہے ہوتے ہیں۔

پاکستان میں تربیتی طور پر انگریزی زبان ہی رائج رکھنے کی جو سعی رہی ہے اسکے باعث ہم آج انسانی وسائل کے اعتبار سے ایک کشمکش کا شکار ہیں۔ہمارے پاس بہت قابل لوگ اور ہنر مند افراد ہیں مگر وہ انگریزی کا استعمال زیادہ صحیح نہیں کرنا جانتے۔ دوسرا، نئے افراد جو افردی قوت میں شامل ہو رہے ہیں کسی ایک زبان کو بھی مکمل طور پر استعمال کرنا نہیں جانتے۔

ہم انگریزی زبان میں بھی مکمل مہارت حاصل نہ کر سکے اور اپنی قومی و علاقائی زبانوں کو بھی محفوظ نہ کر سکے۔ سی پیک کے حوالے سے بھی ہم نے چینی زبان سے وہ امیدیں جوڑنا شروع کر دی ہیں جو ہم انگریزی زبان سے رکھتے تھے کہ کاروباری لحاظ سے اگر ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو انگریزی یا چینی زبان لازمی ہوں گی۔ یہ ایک غلط تاثر ہے ۔ میں زبان کو اظہار کے علاوہ نئے علوم سیکھنے کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔ علاوہ ازیںِ، زبان کی مماثلت اس علاقے سے لازمی ہونی چاہیے جہاں کام یا کاروبار سر انجام دیے جا رہے ہوں۔نئی زبان سیکھنے کا باعث، ایک(دوسری) ترقی یافتہ قوم کے علوم کو مزید تحقیق کے لیے جاننا، ہونا چھاہیے نہ کہ اسے صرف ایک نئی رابطہ کاری کا طریقہ سمجھیں۔

میں نے کئی بنیادی تربیت کے پروگرامز کو صرف اس لیے ناکام ہوتے دیکھا ہے کہ ہم اپنے تربیت پانے والے کو دہری اذیت اور مشکل میں ڈالتے تھے۔

نئی زبان اور وہ بھی تکنیکی زبان سے صرف ایک دن میں(9 سے 5 بجے)تک کی ٹریننگ میں آگاہ کرنا◄

ان تکنیکی اصولوں کو یاد کرنا جن کا عملی نمونہ یا منطقی وجہ ہم ان کے ارد گرد کے ماحول سے بھی نہیں دے سکتے◄

اس عمل نے مجھے بھی مجبور کیا کہ بہتر تربیت اور اسی کے ساتھ جڑے ہوئے روزگار کو بہتر بنانے کی لیے ہمیں کسی بھی تربیت پانے والے کے علاقائی تعلق اور زبان کو اپنائیں ۔

مجھے یہاں معروف سفرنامہ نگار ، مستنصر حسین تارڑ کی بات یاد آ جاتی ہے۔ ایک تنگ پہاڑی مقام پر مہم جوئی کے دوران ان کے انگریز ساتھی نے انگریزی زبان میں انہیں کوئی بات کہی، مگر انہوں نے محسوس کیا کے اگر وہی بات اس انگریز نے انھیں علاقائی زبان میں کہی ہوتی تو ان کا ذہن اس بات کو پراسس کرنے کی بجائے فوری طور پر قدرتی ریفلیکس سسٹم کے باعث، اس کام کو جلدی عمل میں لے آتا۔

اسی بنیادی چیز کو اب ہم اپنی تربیت کاری میں استعمال کر رہے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کے ہمارے ٹریننگ پروگرام مارکیٹ میں ایک نئی طرز اور طریقہ کار کو جنم دیں گے۔

ایک بنیادی ورکر – جو فوڈ انڈسٹری (غذائی صنعتکاری ) میں کام کرتا ہے یا ایک کرین آپریٹر ہے، اسے بنیادی فوڈ سیفٹی یا ورکر سیفٹی پڑھانے کے لیے اسکی علاقائی یا اسکی صحیح اور جلد سمجھ میں آنے والی زبان کا انتخاب کرنا لا زمی ہے۔ یہ اسکے تربیتی پروگرام کو کامیاب کرے گا اور اسکے واضح نتائج سامنے آئیں گے۔

اس ضمن میں معروف تربیت کار جناب ولی زاہد صاحب کے عالمی زبانوں اور پاکستانی زبانوں پر لکھے جانے والے بلاگ پوسٹ بھی اس تحریر کے تناظر میں پڑھے جانے چاہییں۔

آخر میں ایک اہم اور تحقیق طلب امر کی طرف توجہ دلانا لازمی ہے۔بہت تربیت کار زبان سے زیادہ آڈیو/ویژول ٹریننگ پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسا ٹھیک بھی ہے مگر تربیتی مواد میں اس لحاظ سے بیلنس لازمی ہے- صرف تصویری تربیت بھی مکمل فائدہ مند نہیں ہوتی- اس امر کا اندازہ انگریزی فلم ایڈیوکریسی کے اس سین سے لگایا جا سکتا ہے۔

Posted in Uncategorized.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *